پاکستان کی نوجوان خواتین ہاکی کھلاڑیوں کے لیے ایک نئی امید پیدا ہوگئی ہے، جہاں چند ہفتے قبل تک قومی ٹیم کی جرسی پہننے کا تصور بھی مشکل نظر آتا تھا، وہی کھلاڑیاں اب بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کر رہی ہیں۔
عمان میں ہونے والی ایشین ہاکی فیڈریشن کی انڈر 18 اور انڈر 21 فائیو اے سائیڈ ہاکی چیمپیئن شپ میں شرکت کرنے والی پاکستانی کھلاڑیوں کی کہانی صرف ایک کھیل کا واقعہ نہیں بلکہ ہاکی کے شعبے میں انتظامی بہتری، میرٹ پر مواقع کی فراہمی اور خواتین ہاکی کی بحالی کی کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ہاکی فیڈریشن کا بڑا فیصلہ، قومی ٹیم کے لیے ہائی پرفارمنس 4 غیر ملکی کوچز کی تقرری
خواتین ہاکی کی بحالی کی مہم کا آغاز اسلام آباد میں ہونے والی قومی انڈر 21 گرلز ہاکی چیمپیئن شپ سے ہوا، جس میں ابتدا میں صرف 5 یا 6 ٹیموں کی شرکت متوقع تھی، تاہم ٹورنامنٹ میں ملک بھر سے 16 ٹیموں نے حصہ لیا اور 300 سے زائد کھلاڑیوں
چیمپیئن شپ میں گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر، بلوچستان اور مختلف ہاکی اکیڈمیوں کی کھلاڑیوں نے بھی شرکت کی۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے مطابق اس مقابلے کا مقصد نئے ٹیلنٹ کی تلاش اور خواتین کھلاڑیوں کے لیے قومی سطح تک پہنچنے کا راستہ ہموار کرنا تھا۔
ٹورنامنٹ کے دوران پاکستان کو عمان میں ہونے والی ایشین ہاکی فیڈریشن کی انڈر 18 اور انڈر 21 فائیو اے سائیڈ ہاکی چیمپیئن شپ میں شرکت کی دعوت ملی، جو ایک اہم موقع تھا لیکن اس کے ساتھ کئی مشکلات بھی درپیش تھیں۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے مطابق منتخب کھلاڑیوں میں تقریباً 70 فیصد کے پاس پاسپورٹ، شناختی دستاویزات یا بیرون ملک سفر کے لیے ضروری کاغذات موجود نہیں تھے۔
نے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔