*مولانا نور اللہ* صاحب اس وقت *PB-3 قلعہ سیف اللہ* سے بلوچستان صوبائی اسمبلی کے رکن ہیں۔ انہوں نے 29 فروری 2024 سے دوبارہ حلف اٹھایا اور اس سے پہلے 2018 سے 2023 تک بھی ایم پی اے رہے۔
علاقے کی خدمت کے حوالے سے چند اہم کام جو سامنے آئے
خشک سالی، پانی کی قلت اور زراعت کے مسائل پر انہوں نے گورنر بلوچستان سے ملاقات کی۔ مطالبات میں شامل تھے:
– ژوب ڈویژن میں ایل پی جی پلانٹ لگانا
– ژوب تا بوستان ریلوے لائن کی بحالی
– مسلم باغ اور فقیرزئی کے ہسپتالوں کو فعال کرنا
– قلعہ سیف اللہ بازار ہائی سکول کے لیے بسیں
– لوئی بند اور بادینی کے لیے سولر واٹر سپلائی
– قلعہ سیف اللہ کو آفت زدہ قرار دے کر امداد کا مطالبہ
انہوں نے مسلم باغ کے لیبر ٹیچنگ ہسپتال کے کام کا معائنہ کر کے سست روی پر ناراضگی کا اظہار کیا اور XEN و ٹھیکیدار کو کام تیز کرنے کی ہدایت دی۔ کہتے ہیں “عوامی مفاد کے منصوبوں میں تاخیر ناقابل برداشت ہے”
– لیویز کے میرٹ پر منتخب اہلکاروں کے آرڈرز جلد جاری کرانے کے لیے سیکرٹری اور ڈی جی لیویز سے ملاقاتیں کیں
– وزیر اعلیٰ بلوچستان کے ساتھ مل کر کان مہترزئی میں بڑے ڈیم کا سروے مکمل کروایا۔ اس سے زراعت، پانی کے ذخائر اور پینے کے پانی میں بہتری آئے گی
– مسلم باغ کو ضلع کا درجہ دینے کے فیصلے کو عوامی امنگوں کی ترجمانی قرار دیا
زیارت کراس پر ڈی سی پشین اور لیویز کے خلاف گاڑی مالکان کے ساتھ احتجاج کیا اور کہا کہ عوام کو بلاوجہ تنگ نہ کیا جائے
مختصر یہ کہ مولانا نور اللہ صاحب قلعہ سیف اللہ کے پانی، صحت، تعلیم، زراعت اور روزگار کے مسائل کو اسمبلی اور انتظامیہ کی سطح پر اٹھاتے رہے ہیں۔
پریس ریپورٹر خیراللہ کاکڑ تحصیل مسلم باغ قلعہ سیف اللہ