حب نیو بلوچ کالونی اور بلوچ خان رند کالونی ایک ماہ سے کچرے کے ڈھیروں کی زد میں میونسپل کارپوریشن کی کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے
تفصیلات کے مطابق نیو بلوچ کالونی اور بلوچ خان رند کالونی میں گزشتہ ایک ماہ سے صفائی ستھرائی کا نظام شدید متاثر ہونے کے باعث شہری اذیت میں مبتلا ہیں گلی محلوں میں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر جمع ہونے سے تعفن اور بدبو پھیل رہی ہے جبکہ گندگی کے باعث مچھروں اور دیگر حشرات کی افزائش میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے ملیریا ڈینگی اور دیگر بیماریوں کے خدشات بڑھ گئے ہیں شہریوں کا کہنا ہے کہ میونسپل کارپوریشن حب کی جانب سے صفائی کے دعوے تو کیے جاتے ہیں لیکن زمینی صورتحال ان دعوؤں کے برعکس ہے۔ اگر شہر کے متعدد علاقوں میں ہفتوں تک کچرا نہیں اٹھایا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صفائی کا نظام آخر کہاں اور کس کے لیے چلایا جا رہا ہےمکینوں نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو صرف فوٹو سیشن اور نمائشی صفائی نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر عملی اقدامات درکار ہیں۔ چند مخصوص علاقوں میں صفائی کرکے تصاویر بنوانے سے حب شہر کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ میونسپل کارپوریشن کو فوٹو سیشن سے نکل کر عملی میدان میں آنا ہوگا اور شہر کے تمام علاقوں میں بلاامتیاز صفائی یقینی بنانا ہوگی۔شہریوں نے کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطا ڈپٹی کمشنر حب جمعہ داد خان مندوخیل اور اسسٹنٹ کمشنر حب مہیم خان گچکی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے میونسپل کارپوریشن حب کے چیئرمین گل حسن محمد حسنی اور چیف آفیسر نجیب الدین کو پابند کریں کہ نیو بلوچ کالونی بلوچ خان رند کالونی سمیت شہر کے تمام علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر صفائی کا مؤثر نظام بحال کیا جائے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت صفائی نہ کی گئی تو کچرے کے یہ ڈھیر صرف بدبو کا مسئلہ نہیں رہیں گے بلکہ عوامی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔ انتظامیہ اور میونسپل کارپوریشن کو اب نمائشی اقدامات کے بجائے عملی کارکردگی دکھانا ہوگی