شاہراہوں کی بحالی کے لیے کلیئرنس آپریشن، کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح افراد کی فائرنگ سے پولیس اہلکار شہید
•
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ترکیہ پہنچنے پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا پرتپاک استقبال کیا گیا، جو پاکستان اور ترکیہ کے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کا مظہر تھا۔
•
سعودی عرب پر حملوں کی شدید مذمت، وزیراعظم شہباز شریف کا ریاض کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار
اگر آپ اپنی روزمرہ زندگی میں توازن قائم کرنا چاہتے ہیں تو ماہرین صحت کے مطابق ’آٹھ، آٹھ اور آٹھ کا اصول‘ ایک مؤثر رہنمائی فراہم کر سکتا ہے۔
اس اصول کے تحت 24 گھنٹوں کو تین برابر حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پورے دن میں آٹھ گھنٹے نیند، آٹھ گھنٹے کام اور آٹھ گھنٹے ذاتی زندگی کے لیے مختص کیے جاتے ہیں، جس میں ورزش، متوازن غذا، آرام، خاندان کے ساتھ وقت گزارنا اور مشاغل شامل ہیں۔
انڈیا کے ’فورٹس میموریل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ‘ سے منسلک سینئر ڈائریکٹر ڈاکٹر امیتابھ پارتی کے مطابق ’یہ اصول صحت مند زندگی کے لیے ایک مفید رہنما ہے، تاہم اسے ہر فرد کو اپنی عمر، صحت، پیشے اور طرزِ زندگی کے مطابق اپنانا چاہیے۔‘
ڈاکٹر پارتی کے مطابق ’صرف آٹھ گھنٹے سونا کافی نہیں بلکہ صحیح وقت پر سونا اور جاگنا بھی ضروری ہے۔‘
ماہرین کے مطابق روزانہ آٹھ گھنٹے کام کرنے کی حد مقرر کرنا بھی فائدہ مند ہے، کیونکہ طویل اوقات تک مسلسل کام ذہنی دباؤ، ہائی بلڈ پریشر، بے چینی اور جسمانی مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ڈاکٹرز، ایمرجنسی سروسز اور شفٹوں میں کام کرنے والے افراد کے لیے مقررہ اوقات پر عمل کرنا ممکن نہیں ہوتا، اس لیے ان کے لیے مناسب آرام اور جسمانی بحالی زیادہ اہم ہے۔
دن کے آخری آٹھ گھنٹے جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے استعمال کیے جانے چاہییں۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ اس وقت میں ورزش، متوازن غذا، اہلِ خانہ کے ساتھ وقت، مطالعہ، مشاغل، مراقبہ، سماجی روابط اور کھلی فضا میں سرگرمیوں کو شامل کیا جائے۔
صرف آٹھ گھنٹے سونا کافی نہیں بلکہ صحیح وقت پر سونا اور جاگنا بھی ضروری ہے (فائل فوٹو: پکسابے)